ابنا: اپني ہفتہ وار پريس بريفنگ کے دوران نامہ نگاروں کے سوالوں کے جوابات ديتے ہوئے سيد عباس عراقچي کا کہنا تھا کہ يورپي يونين کا يہ اقدام لبنان کے عوام اور حکومت دونوں کے خلاف ہے کيونکہ لبنان کے عوام، عالم اسلام اور خطے کے ملکوں ميں حزب اللہ کو انتہائي احترام کے نظر سے ديکھا جاتا ہے-
انہوں نے واضح کيا کہ اسرائيل کے مقابلے ميں حزب اللہ کي جائز مزاحمت کو شروع ہي سے عالم اسلام اور خطے کے ملکوں ميں احترام کي نگاہ سے ديکھا جاتا رہا ہے لہذا ايک ايسي قابل احترام تنظيم کا نام دہشتگرد تنظيموں کي فہرست ميں شامل کرکے يورپي يونين نے غير دانشمندي کا ثبوت ديا ہے-
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ايران کي جوہري تنصيبات کے پھر سے معائينے کے بارے ميں جاري ہونے والی خبروں کے بارے ميں کہا کہ آئي اے اي اے کے ساتھ کوئي نيا سمجھوتہ نہيں ہوا ہے اور فريقين کےدرميان تعاون کے دائرے ميں ہونے والے مذاکرات ابھي ختم نہيں ہوئے ہيں-
ايران کے نائب وزير خارجہ نے يہ بات زور ديکر کہي کہ اسلامي جمہوريہ ايران صرف اور صرف سيف گارڈ قوانين اور اين پي ٹي کے معاہدے کے تحت آئي اے اي اے کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے لئے تيار ہے- انہوں نے واضح کيا کہ اسلامي جمہوريہ ايران سيف گارڈ قوانين اور اين پي ٹي معاہدے سے ہٹ کر ہرگز تعاون نہيں کرسکتا-
عباس عراقچي نے امريکي کانگريس کي جانب سے ايران کے خلاف سالانہ پابنديوں کا بل تاخير کے ساتھ ارسال کئے جانے کے بارے ميں پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ ايسا کانگريس کے عہديداروں کي جانب سے امريکي حکام کو ايران کے ساتھ بہتر تعاون کے بارے ميں لکھے جانے والے خط کي وجہ سے ہوا ہے جو امريکي پاليسيوں ميں دانشمندي کي علامت ہے کيونکہ حکومت امريکہ کي تباہ کن پاليسيوں اور انتہاپسندي کي جانب رجحان کا تاوان امريکي عوام کو ادا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ حکمرانوں کي سوچ ميں تبديل کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہيں-
دفتر خارجہ کے ترجمان نے يہ بات زور ديکر کہي کہ ہمارے لئے خوبصورت باتوں اور بيانات کي کوئي اہميت نہيں ہے بلکہ عملي طور پر تبديلي آنا چاہيے- انہوں نے کہا کہ اگر بيانات کے ساتھ ساتھ ماضي کي غلطيوں کے ازالے اور غلط پاليسيوں کي اصلاح کي عرض سے عملي اقدامات سامنے آتے ہيں تو يقينا اسے کشيدگي ميں کمي اور نئے ماحول کے آغاز کا جانب ايک قدم تصور کيا جائے گا-
عباس عراقچي نے نومتنحب صدر کي تقريب حلف برداري ميں غير ملکي عہديداروں کي شرکت کے بارے ميں کہا کہ اس تقريب ميں جو چار اگست کو پارلمينٹ ہاؤس ميں ہوگي انقلاب اسلامي کي تاريخ ميں پہلي بار اس بات کا فيصلہ کيا گيا ہے کہ غير ملکي مہمانوں کو بھي مدعو کيا جائے-
انہوں نے کہا اس قسم کي تقريبات ميں غيرملکي عہديداروں کو شرکت کي دعوت دينا دنيا بھر ميں رائج اور خاص طورپر ہمسايہ ملکوں يا دوست ممالک کے اعلي عہديداروں کو ايسے پروگرام ميں ضرور آنے کي دعوت دي جاتي ہے- انہوں نے کہا کہ امريکہ اور صہیوني ریاست کو چھوڑ کو تمام ملکوں کو اس تقريب ميں شرکت کے دعوت نامے ارسال کئے گئے ہيںّ -
.......
/169